Wednesday, September 12, 2012

Class XI, Islamiat, "حج"

حج

حج کے معنی
حج کے لفظی معنی نسبت اور ارادے کے ہیں۔ شریعت مےں حج کے اصطلاحی معنی مکہ مکرمہ میں عبادت کے یکم شوال سے لے کر ذی الحج کی0 نوتاریخ کے درمیانی عرصے میں خانہ کعبہ پہنچ کر مخصوص اعمال اور عبادت کرنا ہے۔ اس عبادت کا سب سے اہم جز میدانِ عرفات میں قیام ہے۔ جس کے لئے ذی الحج کی تاریخ مقرر ہے۔
حج کی فرضیت
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ عبادات ان تمام پر ایک دفعہ فرض ہیں جو بیت اللہ شریف تک پہنچنے کے اسباب و وسائل رکھتے ہیں اور جنہیں زادِ سفر اور زادِ عمل دونوں حاصل ہوں۔ حج کی فرضیت قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں۔
حج قرآن کی روشنی میں
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
یعنی لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو کوئی بیت اللہ تک آنے کی قدرت رکھتا ہو وہ حج کے لئے آئے اور جس نے کفر کی روش اختیار کی تو وہ جان لے کہ اللہ تمام دنیاوالوں سے بے نیاز ہے۔
اس آیت میں دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ حج بندوں پر خدا کا حق ہے جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے وہ ظالم، خدا کا حق مارتے ہےں دوسری یہ کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا کافرانہ روش ہے۔
حج حدیث کی روشنی میں
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے لوگوں تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس تم ضرور حج کرو۔
حج کی اہمیت
حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں تمام عبادتوں کی روح شامل ہے۔ اس میں نمازوں کی طرح دعا، روزوں کی طرح بھوک پیاس اور نفسانی خواہشات سے پرہیز اور زکوة کی طرح مالی قربانی ہے۔ اس لئے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرت رکھنے کے باوجود حج ادا نہ کرنے والوں کے لئے وعید فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جیسے کسی بیماری نے یا کسی واقعی ضرورت نے یا کسی ظالم حکمران نے روک نہ رکھا ہو اور اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی۔
اس کے برعکس اس شخص کے بارے مےں جس نے فریضہ حج کو صحیح طریقہ سے ادا کرلیا اس کے لئے اتنے بڑے اجرو ثواب کا وعدہ ہے جس سے زیادہ کی تمنا نہیں کی جاسکتی۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ اور نہیں۔
ایک اور حدیث مےں ارشاد ہوتا ہے :
حج اور عمرہ کرنے والے خدا کے مہمان ہیں وہ اپنے میزبان یعنی اس سے دعا کریں تو وہ انکی دعائیں قبول فرمائے گا اور وہ اس سے مغفرت چاہیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے گا۔
حج کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طرح طرح سے اس کی ترغیب دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
جس نے (خلوصِ نیت سے) اس گھر کا حج کیا اور اس مےں فسق اور برائیوں سے بچارہا تو وہ ایسا پاک و صاف ہوکر لوٹے گا جیسے اس دن تھا جس دن اسکی ماں نے اسے جنم دیا۔
وجوبِ حج کی شرطیں
وجوبِ حج کی شرطیں مندرجہ ذیل ہیں۔ ان مےں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو حج واجب نہ ہوگا۔
اسلام
غیر مسلموں پر حج واجب نہیں ہوسکتا۔
عقل
مجنوںاور دیوانے پر حج واجب نہیں۔
بلوغ
نابالغ بچوں پر حج واجب نہیں۔ کسی خوشحال آدمی نے بچپن ہی میں بلوغ سے پہلے حج کرلیا تو اس سے فرض ادا نہ ہوگا۔ بالغ ہونے کے بعد پھر سے فرض ادا کرنا ہوگا۔
استطاعت
حج کرنے والا خوشحال ہو اور اس کے پاس اپنی ضروریات اصیب اور قرض سے محفوظ اتنا مال ہو تو اس پر حج لازم ہوجاتا ہے۔
آزادی
غلام اور باندی پر حج واجب نہیں۔
جسمانی صحت
یعنی کوئی ایسی بیماری نہ ہو جس میں سفر کرنا ممکن نہ ہو لہذا لنگڑے، اپائج، نابینا اور زیادہ بوڑھے شخص پر خود حج کرنا واجب نہیں۔ البتہ دوسری تمام شرطیں پائی جائیں تو دوسرا حج کراسکتا ہے۔
راستے میں امن و امان ہو
اگر راستے مےن جنگ چھڑی ہو۔ جہاز ڈوبنے جارہے ہوں یا راستے مےں ڈاکووں کا اندیشہ ہو یا سمندر میں ایسی کیفیت ہو کہ جہاز اور کشتی کے لئے خطرہ ہو یا اور کسی قسم کے خطرات ہوں تو ان تمام صورتوں میں حج واجب نہیں ہوتا۔
حج کے فوائد
حج کا اصل فائدہ یاد الہی اور تقرب خداوندی ہے۔ لیکن دیگر ارکانِ دین کی طرح اس کے بھی متعدد معاشرتی و اکلاقی فوائد ہےن۔ جو کہ درج ذیل ہیں:
(۱) گناہوں کی معافی
اس موقع پر دنیا کے مختلف علاقوں سے انی والے افراد فریضہ حج کی ادائیگی کی بدولت گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ ایمان اور تقوی کی پاکیزگی کی جو دولت لے کر لوٹتے ہےں وہ ان کے ماہول کی بھی اصلاح کا سبب بنتی ہے۔
(۲) اخوت و بھائی چارگی
حج کا یہ عظیم الشان اجتماع ملتِ اسلامیہ کی شان و شوکت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے اخوت و بھائی چارے کا آئنہ دار ہوتا ہے۔ جب دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے مسلمان رنگ نسل، قوم و وطن کے امتیازات سے بالاتر ہوکر یک زبان ایک ہی کلمہ لبیک اللھم لبیک دہراتے ہیں۔ ایک ہی کیفیت میں سرشار اپنے خدا کی پکار پر لپکے جارہے ہوتے ہیں تو گویا وہ خدا کے فداکار سپاہیوں کی ایک فوج معلوم ہوتے ہیں۔
(۳) تجارت
حج کا ایک اہم تجارتی اور اقتصادی فائدہ یہ بھی ہے کہ مکتلف ممالک سے آنے والے حجاج خرید و فروخت کے ذریعے معاشی نفع حاصل کرتے ہیں۔

Class XI, Islamiat, "روزہ"

روزہ

روزے کے لغوی معنی
روزے کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ جس کے معنی ہیں روکنا۔
روزے کے شرعی معنی
شریعت کی اصطلاح میں روزے سے مراد ہے کہ صبح صافق سے لے کر غروبِ آفتاب تک صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کھانے پینے اور دوسرے دنیاوی کاموں سے اپنے آپ کو روکنا۔ دنیاوی کاموں سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام کام جن کو اللہ نے ناپسند کیا ہو اور منع کیا ہو وہ کام وہ جوروزے کے علاوہ دوسرے ایام میں جائز ہےں۔ فرمانِ الہی ہے:
اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بن سکو۔
روزے کی فضیلت و اہمیت قرآن کی روشنی میں
روزہ نماز کے بعد ایسی بڑی عبادت ہے جو صرف امتِ محمدی صلی اللہ ولیہ وسلم پر فرض کی گئی ہے۔ روزے کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ قرآن پاک رمضان پاک کے مہینے میں نازل ہوا تھا۔ فرمانِ الہی ہے کہ:
جس میں قرآن نازل ہوا وہ مہینہ رمضان کا ہے۔ لوگوں کےلئے ہدایت ہے روشن دلیلیں ہیں جو کوئی پائے اس مہینے کو تو اس مہینے کے روزے ضرور رکھے۔
روزے کی فصیلت و اہمیت حدیث کی روشنی میں
حضوراکرم صلی اللہ ولیہ وسلم نے بھی رمضان کے مہینے کی بڑی فضیلت اور اہمیت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ ولیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
روزہ اور قرآن مجید بندے کے واسطے شفاعت کریں گے۔
روزہ کہے گا اے میرے رب، میں بندے کو کھانے پینے اور رغبت کی چیزوں سے منع کرتا تھا۔ پس اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما۔
ہر شے کی ایک زکوة ہوتی ہے اور جسم کی زکوة روزہ ہے۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔
قرآن و حدیث کے ان ارشادات سے روزے کی اہمیت و فضیلت اچھی طرح واضح ہوگئی ہی۔ روزہ ایک اتنی بڑی عبادت ہے کہ اس کے ذریعے اللہ کی ناراضگی سے بچ سکتا ہی۔ اور ایسی جدوجہد ہے کہ اللہ کو خوش کرسکتا ہے۔ انسان میں روزے سے تقوی پیدا ہوتا ہے اور انسان کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔ روزے کی اہمیت اللہ کے اس فرمان سے اور اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ:
انسان کا ہر عمل اس کا ہوتا ہے۔ روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دونگا۔
حضوراکرم صلی اللہ ولیہ وسلم نے بھی روزے کی اہمیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ اس کو یہ کہا:
روزہ دوزخ سے بچانے والی ڈھال ہے۔
روزہ نہ صرف قرآن و حدیث سے اپنی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ بلکہ صحابہ کرام نے بھی روزے کی اہمیت بہت زیادہ بتائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ:
رمضان المبارک میں فرض ادا کرنے کا ثواب ۰۷ فیصد زیادہ ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔
روزے کے انفرادی فوائد
حضوراکرم صلی اللہ ولیہ وسلم کے چند ارشادات سے روزے کے فوائد بخوبی واضح ہوجاتے ہیں:
اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غلط کاموں سے نہیں بچتا تو اللہ کو اس کا کھانا پینا چھڑانے سے کوئی دلچسپی نہیں۔
آدمی کے ہر عمل کا ثواب دس گنا سے لے کر سو گنا تک ہے لیکن روزے کی بات اور ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ تو خاص میرے لئے ہے اس کا ثواب میں اپنی مرضی سے دوں گا۔
(۱) تقوی
تقوی کا مفہوم ہے برے کاموں سے بچنا اور اچھے کاموں کی طرف راغب ہونا۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہم میں پرہیزگاری پیدا ہوجاتی ہے اور ہم خودبخود برے کاموں سے بچتے ہیں اور نیکی کے راستے پر چلنے لگتے ہیں۔ تقوی انسان میں روزے کی کیفیت میں پیدا ہوتا ہے۔
(۲) ضبطِ نفس
انسان کی خواہشات اگر اللہ کے حکم کے تابع رہیں تو انسان برائی سے دور اور نیکی سے قریب ہوجاتا ہے۔ ضبطِ نفس انسان میں انفرادی اور اجتماعی خوبیوں کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو انسان حیوانی سطح پر آجاتا ہے۔
روزہ کا اصل مقصد انسان کو نفس پر قابو رکھنا سکھاتا ہے۔ جو شخص پورا مہینہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی خواہشات پر کامیابی سے قابو پالے تو اس میں شیطانی قوت کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔ انسان روزے کی حالت میں زیادہ وقت عبادت اور اچھے کاموں میں گزارتا ہے اور وہ وقت آجاتا ہے کہ اس میں نیکی سے محبت اور بدی سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔
(۳) انسان کا احتساب
حضوراکرم صلی اللہ ولیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے گئے روزوں سے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزوں سے بھوک اور پیاس کی تکلیف کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اگر روزے مکمل ایمان اور تقوی کے ساتھ رکھے جائیں تو انسان اپنا احتساب خود کرسکتا ہے۔ اس کو ہر دم یہ خیال رہے گا کہ مجھ سے کوئی بھول نہ ہوجائے اور میرے روزوں میں اتنا تقوی ہو کہ میرے گناہ معاف ہوجائیں۔
(۴) نیکی کی طرف رغبت
رمضان کا پورا مہینہ انسان خود بخود نیکی کے کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے اور جو کام اس نے سال بھر میں کئے وہ اس مہینے ضرور کرتا ہے۔ جسے زکوة خیرات، ہمدردی، غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کی مدد سے اور مسجدوں میں چندہ وغیرہ دینا۔
(۵ ) سچی خوشی اور ذوقِ عبادت
رمضان کے مہینے میں بھوکا پیاسا رہ کر انسان کو جو سچی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ تمام دنوں میں حاصل نہیں ہوتی۔ بھوک کے عالم میں بھی ہر قسم کی نعمت سامنے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کھانا پینا ایک ایسی کیفیت بن جاتی ہے جس میں بندگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس مےں یہ احساس بھی جاگ جاتا ہے کہ میں صرف اللہ کی رضا کے لئے اپنے جسم و جان کو تکلیف دے رہا ہوں جس کا کوئی بدل نہیں۔ انسان اس ماہ عبادتوں، شب بیداریوںکو تلاوت، قرآن مجید کا بھی عادی ہوجاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت نماز، تلاوت اور زکوة و خیرات میں گزارے۔
جسمانی و سماجی فوائد
روزہ ایسی عبادت ہے کہ نہ صرف اخلاقی و روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بلکہ جسمانی اور سماجی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
(۱) انسانی تربیت
ایک مکمل مہینہ انسان میں ایسی تربیت پیدا کردیتا ہے کہ اس کو اپنی بھوک پیاس کے ساتھ دوسروں کی بھوک پیاس کا بھی اندازہ ہونے لگتا ہے اور اسکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی توفیق کے مطابق دوسروں کی بھوک پیاس مٹائے۔
(۲) قناعت کی عادت
کم سے کم غذا پر قناعت کی عادت نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جس سے غذا کا ضیاع ہونے سے بچ جاتا ہے۔
(۳) اخوت و بھائی چارگی
ایک ہی وقت میں پوری ملتِ اسلامیہ کا ایک عبادت میں مشغول ہونا باہمی یگانگت کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔ اس اعتبار سے آپ ماہِ رمضان کو ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ کہہ سکتے ہیں۔
(۴) اسلامی معاشرے کی تشکیل
روزہ رکھنے سے انسان کا کردار ایسا بن جاتا ہے کہ وہ بجا طور پر دوسروں کو نیکی کی طرف راغب کرنے کی کوشس کرتا ہے اور تمام افراد مل کر ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہےں کہ جس میں ہر شخص اپنا اپنا کردار ادا رکرسکتا ہے۔
(۵) زکوة و خیرات کی کثرت
رمضان کے مہینے میں زکوة و خیرات کثرت سے ادا کی جاتی ہے۔ یہ انفرادی فعل ہے مگر اس چیز سے بہت سے لوگوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور تنگ دستی دور ہوتی ہے۔
(۶) حفظانِ صحت
جب ایک فرد اس ماہ کھانے پینے میں اعتدال سے کام لیتا ہے تو اس کی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اگر پورے معاشرے کی یہی روش رہے تو تمام افراد صحت مند رہ سکتے ہیں۔
(۷) شیطانی قوتوں سے بچاو
رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ شیطانی قوتوں کوقید کردیتا ہے اور اگر انسان چاہے تو پورے سال ان قوتوں کو معاشرے سے دور رکھ سکتا ہے تاکہ نیکی کا بول بالا ہو۔
(۸) قرآن پاک کی برکتوں کا نزول
قرآن اور رمضان کا گہرا تعلق ہے۔ قرآن کے مضامین ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہیں جو رمضان کے مہینے میں تلاوتِ قرآن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جو لوگ سال بھر قرآن کو ہاتھ نہیں لگاتے ہیں اس ماہ اس کی برکتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی پورے معاشرے میں پاکیزہ سماں بن جاتا ہے۔
(۹) شبِ قدر
رمضان میں یوں تو ہر شب شبِ قدر ہوتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ ان راتوں سے فیض و برکت حاصل کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ تمام راتوں میں شب بیداریاں نہیں کرسکتے اللہ نے ان کو یہ رعایت دی ہے کہ صرف ایک رات کی عبادت سے بھی بڑا فیض حاصل کرسکتے ہےں۔ اگر پورا معاشرہ ان راتوں کے فیض و برکت کی قدر کرے تو شائد ہی کوئی شخص ان سے محروم رہ سکتا ہے۔
غرضیکہ رمضان کا پورا مہینہ برکتوں اور خوشیوں کا مہینہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ اس مہینے ہمیں تو کچھ حاص نہیں ہوا تو دراصل بات یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ تقوی، اخلاص، ایمان اور احتساب کی شرائط لازمی ہے۔ تب ہی پورا معاشرہ ان برکات سے فیضیاب ہوسکتا ہے۔

Class XI, Islamiat, "نماز"

نماز

نماز کے لغوی معنی
نماز کے لغوی معنی صلوة ہیں جس کا اردو میں مطلب دعا کرنا اور التجا کرنا ہے۔
نماز کے شرعی معنی
شریعت کی اصطلاح میں نماز عبادت کا ایک خاص طریقہ ہے جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بتایا تھا۔ اسلامی عبادت میں یہ سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے جو ہر جوان اور بوڑھے، مرد اور عورت پر فرض ہے۔
نماز کی تاریخ
توحید کے بعد نماز اللہ کا وہ پہلا حکم ہے جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے ادا ہوا۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ:
اے لحاف میں لپٹے ہوئے آٹھ اور ہوشیار ہوکر اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔
شروع شروع میں نماز مختصر اور کم تھی۔ معراج پر تشریف لے جانے کے بعد پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوئیں اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی پیغمبر ایسا نہیں کہ جس نے نماز کی تعلیم نہ دی ہو۔ حضرت ابراہیم نے بھی اپنی نسل کے لئے یہ دعا فرمائی:
اے میرے پروردگار مجھ اور اور میری نسل کو نماز قائم کرنے والا بنا۔
تمام امتیں اپنے پیغمبروں کی بتائی ہوئی نمازیں ادا کرتی تھیں۔ مگر آہستہ آہستہ ان میں بہت سے غلط اور مشرکانہ باتیں شامل ہوگئی۔ ارشادِ ربانی ہے کہ:
خانہ کعبہ کے نزدیک ان کی نماز کیا ہوتی وہ سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹتے۔
نماز کی اہمیت قرآن کی نظر میں
تماز ایسی عبادت ہے جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے اور تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ نماز کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ:
نماز کی حفاظت کرو۔
متقی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ نماز ادا کرتے ہیں۔
اور نماز پڑھا کرو، زکوة دیا کرو اور خدا کے آگے جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاو۔
نماز کی اہمیت حدیث کی روشنی میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز کی فرضیت اور فضیلت و اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ باربار نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے اور نماز چھوڑنے پر سخت عذاب کی خبر سنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نماز مومن کی معراج اور دین کا ستون ہے۔
نماز جنت کی کنجی ہے۔
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا۔
قیامت میں سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔
دین کی اصل بنیاد خدا اور رسول کے آگے سرجھکادینا ہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اس قدر اہم بتایا ہی کہ نماز ہی مسلمانوں اور کافروں میں فرق ظاہر کرتی ہے۔ نماز تمام عبادتوں میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ قبر اور قیامت میں پہلا سوال نماز کا ہوگا اور اور یہ پہلا سوال صحیح ہوگیا تو باقی سوالات بھی آسان ہوجائیں گے۔ نماز سے انسان نظم و ضبط کا پابند ہوجاتا ہے اور نماز ہی آخرت کی کامیابی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہی کہ:
نماز ٹھیک نکلی تو آخرت میں کامیاب و بامراد ہوگا ورنہ نادم ہوگا اور خسارے میں رہے گا۔
ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک انسان ہوش و حواس میں قائم رہیں نماز کی پابندی ضروری ہے۔ نماز کی اہیت یہ بھی ہے کہ نماز پڑھتے وقت نمازی کا سارا جسم، دل و دماغ، سب نماز مےں مصروف ہوجاتے ہیں۔
نماز کی فرضیت
نماز کی فرضیت اس بات سے ظاہر ہے کہ قرآن کے آغاز اور نزول میں فرض عائد کیا گیا تھا۔ نہ صرف حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر بلکہ دوسرے انبیاءکی امتوں پر بھی یہ فرض کی گئی تھی۔ قرآن میں نماز کی فرضیت کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور اس کا نہ پڑھنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے پہلا حکم ملا وہ نماز ہی کا تھا۔ اور آخرت میں سب سے پہلا سوال بھی نماز ہی کا ہوگا۔ نماز جونکہ دینی تربیت کا اہم حصہ ہے اس لئے تمام انبیاءبھی اپنی امتوں کو بار بار نماز کی تاکید کرتے رہے۔ اللہ تعالی نماز کو دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بتایا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ:
جب عذاب کے فرشتے دوزخیوں سے عذاب پانے کی وجہ پوچھیں گے تو وہ جہنم میں پھینکے جانے کی وجہ یہ بتائیں گے کہ ہم نماز نہ پڑھتے تھے